ابنا: لویہ جرگہ کا آغاز افغان صدر کے دفتر کے سربراہ کے خطاب سے ہوا۔ اس جرگہ میں دو ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں۔ صدر ، ان کی کابینہ کے ارکان، اور پارلمنٹ کے اراکین اس جرگہ میں شرکت کر رہے ہیں۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے لویہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان پر امریکی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ حامد کرزئي نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ افغانستان پر حملے بند کر دے اور اس کے قومی اقتدار اور خود مختاری کا احترام کرے۔ افغانستان کے صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران سے تعلقات میں فروغ لانے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کابل، امریکہ کے ساتھ ایران کی کشیدگي کے باوجود ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغاں قوم ایران میں تین دہائيوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی قدر کرتی ہے۔
پولیس نے کابل کے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹ قائم کر کے لویہ جرگہ کو سکیورٹی فراہم کی ہے۔ طالبان نے دھمکی دی ہے کہ لویہ جرگہ کو نشانہ بنائيں گے۔
ادھر لویہ جرگہ ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب افغانستان کی بہت سی سیاسی شخصیتیں، ارکان پارلیمنٹ، مذہبی و سیاسی پارٹیاں اور عوام افغانستان واشنگٹن اسٹراٹیجک فوجی معاہدے کے مخالف ہیں۔ افغاں عوام نے بارہا احتجاجی مظاہرے کرکے اس معاہدے کی مخالفت اور بیرونی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
...........
/169